ہانسی /ہریانہ،7/ اکتوبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) منگل کی شب کو ضلع کے ہانسی قصبے کے بڑوالاروڈپر ایک بڑا واقعہ سامنے آیا، بدمعاشوں نے ایک تاجر کو لوٹ کے بعد کار سمیت زندہ جلایا۔
بتایا جاتا ہے کہ دیر رات ڈسپوزل تاجر سے 11 لاکھ روپے لوٹ لئے گئے۔ اس کے بعد بدمعاشوں نے تاجر کو کار سمیت زندہ آگ کے حوالے کردیا۔خیال رہے کہ تاجر نے بھتیجے کو زخمی حالت میں بھی فون کر کے مدد کیلئے بلایا تھا،لیکن اہل خانہ کے موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ مسخ شدہ لاش بن چکا تھا۔اس دوران پولیس اور اہل خانہ بھی موقع پرپہنچ گئے۔ پولیس نے مقتول کی لاش کی باقیات کو پوسٹمارٹم کے لئے بھیج کر مقدمہ درج کرکے قاتلوں کی تلاش شروع کردی ہے۔
غور طلب ہے کہ مقتول کی شناخت رام میہر کے نام سے ہوا ہے۔ اس کا بڑوالا میں ڈسپوزایبل شیشہ کی فیکٹری ہے۔منگل کی شب تاجر رام مہر کار سے کہیں جارہا تھا، اس کے پاس گیارہ لاکھ روپے نقد بھی تھے۔ بدمعاشوں نے اسے گھیر لیا، اور تاجر سے نہ صرف 11 لاکھ روپے کی نقدی لوٹ لی گئی، بلکہ کار کو آگ لگا کر اسے زندہ جلایا گیا۔مقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ واقعہ کے وقت مقتول تاجربری طرح گھبرایا ہواتھا، اس نے بھتیجے کو بھی مدد کے لئے بلایا۔ اس کا آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو رہا ہے۔ تاجر نے فون پر کہا کہ جلد آؤ، میری جان کو خطرہ ہے، دو بائک سوار لوگ مجھے مار ڈالیں گے۔ اہل خانہ نے جلد ہی موقع پر پہنچنے کا وعدہ کیا تھا۔صدر تھانہ انچارج کشمیری لال نے بتایا کہ پولیس کو رات 12 بجے بڑ والا روڈ پر ایک کار میں ایک شخص کو زندہ جلائے جانے کی اطلاع ملی تھی، کار کے رجسٹریشن نمبر کی بنیاد پر لواحقین سے رابطہ کیا گیا۔ موقع پر پہنچنے کے بعد، اس نے بتایا کہ مقتول نے منگل کے روز بینک سے 11 لاکھ روپے نکالے تھے، تاہم یہ سانحہ پیش آگیا۔